کالم

ایشیا کپ کا سرتاج کون؟ شاہ جانے یا جے شاہ جانے!

تحریر: محمد مستجاب

ایشیا کپ کے تقدس کو جس طرح موجودہ ایشین کرکٹ کونسل کے چئیرمین جے شاہ نے پامال کیا ہے تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ ایشیا کپ کرکٹ کی دنیا کے سب سے زیادہ معروف مقابلوں میں سے ایک ہے جو کہ سال 2023میں پاکستان میں منعقد ہونا طے پایا تھا۔ اس سے قبل ایشیا کپ کرکٹ کا تاریخی تعلق 1984 سے ہے. یہ مقابلے کرکٹ کی دنیا کے تین بڑے قومی ٹورنامنٹس میں سے ایک ہیں، دوسرے دو عظیم اقوامی ٹورنامنٹس ورلڈ کپ اور چمپئنز ٹرافی ہیں. ایشیا کپ کا اصل مقصد ایشیائی قوموں کو اپنے درمیان کرکٹ میچوں کے ذریعے اپنی مہارتوں کا مظاہرہ کرنے کا موقع فراہم کرنا ہوتا ہے۔
لیکن رواں ایشیا کپ کو شروع ہونے سے قبل ہی بھارتی وزیرِداخلہ کے بیٹے اور ایشین کرکٹ کونسل کے چئیرمین جے شاہ نے ہرممکن کوشش کے ساتھ متنازع بنا دیا۔ جے شاہ! جسکا کام تھا کہ اس ٹورنامنٹ کو احسن طریقے سے منعتقد کرواتا وہی اس ٹورنامنٹ کی بربادی کا سب سے بڑا ذمہ دار ٹھرا ہے۔ پہلے بھارتی ٹیم نے پاکستان آنے سے انکار کیا جس پر پاکستان نے یو اے ای میں ٹورنامنٹ منعقد کرنے کی تجویز دی جس کو بھارتی ہٹ دھرمی کی وجہ س رد کر دیا گیا۔ اس کے بعد ایک ایسا ملک جہاں چائے کے کپ کا موسم چل رہا تھا وہاں ایشیاکپ منعقد کر دیا گیا اور ٹورنامنٹ کو بارشوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔ تاہم پاکستان محظ چارغیر ضروری میچیز کی میزبانی حاصل کرنے میں کامیاب رہا اور ہائبرڈ سسٹم کے تحت بقیہ میچز سری لنکا میں منعقد کروا دیئے گئے۔
قلم کی جنبش جے شاہ کی تقرری کے ماضی کو بیان کرنے سے قاصر، لیکن بحیثیت قلم کار اور تجزیہ نگار کی حیثیت سے یہ میرا فرض ہے کہ جے شاہ کے ماضی کی جھلک بیان کروں۔ یہ وہ شخصیت ہیں کہ جن کا کرکٹ سے دور دور تک کوئی تعلق واسظہ نہیں ہے، باپ کے وزیر داخلہ ہونے کی بنیاد پر انہیں پہلے بی سی سی آئی کا سیکرٹری کا عہدہ ملا اور پھر ایشین کرکٹ کونسل کا چئیرمین بنا دیا گیا۔ اور محکمہ موسمیات سے تو انکا بالکل بھی کوئی تعلق نہیں ہے، پھر بھی موصوف کبھی ایشین کرکٹ کے مستقبل کے تن وتنہا فیصلے کرتے نظر آتے ہیں اور حتہ کہ موسم کے بارے میں بھی پیشنگوئی کرتے نظر آئے اور بیان جاری فرمایا کہ کولمبو میں بارش نہیں ہوگی۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ آئندہ آنے والے دنوں میں ہندووں کے داتا ہنومان کے بعد سب سے ذیادہ انہیں کی جے جے کار ہوگی کونکہ ان کے ساتھ جے تو پہلے ہی لگا ہوا ہے اور مستقبل کا حال بھی خوب بتلا رہے ہیں۔
بادلوں اور بارشوں کی موجودگی میں ایشیا کپ کے میچزکروائے جا رہے ہیں اور ہر میچ میں بارش کی آمد یقینی ہوتی ہے۔ جےشاہ کی ہٹ دھرمی یہاں ختم نہیں ہوئی بلکہ سری لنکا میں متبادل وینیو کے انتخاب پر بھی جے صاحب اپنی ضد پر قئم رہے اور بارش زدہ کولمبو میں ہی سارے میچز منعقد

کروانے کی ذِد پوری کرتے رہے۔
ورلڈ کپ سے پہلے ایشیا کپ ایشیا کے تمام ممالک کے لئے تیاری کرنے کا ایک سنہری موقع تھا جسے صرف ایک شخص کی انا نے ضائع کر دیا۔ افسوس در افسوس تو یہ ہے کہ بقیہ ممالک جس میں سری لنکا، بنگلا دیش اور افغانستان شامل ہیں وہ بھی بھارتی ہٹ دھرمی کے سامنے بے بس نظر آئے۔ بھارت نے کرکٹ پر اپنی حکمرانی کا انتہائی ناجائز فائدہ اٹھایا یا پھر شاید نقصان اٹھایا ہے کیونکہ کرکٹ میچز متاثر ہونے سے بھارتی کرکٹ بھی اتنی ہی متاثر ہوئی ہے۔ انکو بھی تیاری کرنے کا سنہری موقع کھونا پڑا ہے۔
حالات یہاں تک آگئے کے شائقین نے میچیز دیکھنے کے لئے سٹیڈیم کا رخ کرنا ہی چھوڑ دیا ہے اور پاکستان کو بالاخر ایشین کرکٹ کونسل سے درخواست کرنا پڑی کے گیٹ آمدنی کے زریعے پاکستان کو جو رقم ملنی تھی اس کا نقصان پورا کیا جائے۔ معاشی نقصان اپنی جگہ مگر کھیل کو جو نقصان پہنچا ہے اس کا ازالہ کوئی نہیں کر سکتا۔
ایشیا کپ میں مقابلے ہمیشہ سخت اور متنازع ہوتے ہیں، جو کرکٹ کی دنیا کو جذبے کی ایک نئی لڑی میں پرو دیتے ہیں۔ مگر اس بار تو مقابلوں کی بجائے پورے ٹورنامنٹ کو ہی متنازع کر دیا گیا ہے۔ حالات اگر یوں ہی رہے اور پاکستان دشمنی میں کرکٹ دشمن بن کر مسلسل نقصان پہنچانا چاہ رہا ہے تو پھرمیری یہ تجویز ہے کہ ایشیا کپ کا نام تبدیل کر کے جے شاہ کپ رکھ دینا چاہئے تاکہ ایشیا کپ جیسے بڑے مقابلے کی جب تذلیل ہو تو پورے ایشیا کپ کا نام بدنام ہونے کی بجائے صرف جے شاہ کا نام بدنام ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Articles

Back to top button