
ہر خطے کی کوئی سوغات اور شہرت وپہچان کا کچھ سبب ہوتا ہے۔ احسن اقبال اور نارووال کا چولی دامن ساتھ اور اس بستی کیلئے ان کی مؤدت اور سرپرستی کی داستان اتنی رنگین ہے کہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ احسن اقبال کی وجہ سے نارووال کی توقیر ہے یا نارووال نے احسن اقبال کو معروف و ممتاز کردیا ہے۔ 30 سالہ سیاسی سفر میں نارووال نے احسن اقبال کوچھ انتخابات میں سے پانچ بار قومی اسمبلی کیلئے اپنا نمائندہ چنا۔ نارووالیوں کی اس محبت کا بدلہ احسن اقبال نے کئی گنا کرکے لوٹایا اور شہر کی کایا پلٹ دی۔ ترقی یافتہ شہر کے کسی بھی معیار اور کسوٹی پر پرکھ کے دیکھ لیں، نارووالی اپنے شہر کو اچھے نمبروں میں پاس ہوتا پائیں گے۔ اس معیار تک پہنچانے کا سہرا احسن اقبال کے سر ہے۔ ان کی سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کی پالیسیوں سے اختلاف کیا جاسکتا ہے مگر احسن اقبال کی سیاسی بصیرت، کمٹ منٹ، حلقے سے لگاؤ اور ذاتی شرافت سے شاید ہی کوئی اختلاف کر سکے۔ تیس سالہ سیاسی سفر میں لڑائی بھڑائی سے کوسوں دور رہے۔ تھانے کچہری کو مخالفین کے دبانے کیلئے کبھی استعمال نہیں کیا۔ زیادہ عرصہ وفاقی سطح کی وزارتیں ان کی جھولی میں رہیں۔ تعلیم، داخلہ امور اور منصوبہ بندی ایسے اہم قلمدان سنبھالے رکھےاور طاقت کا سرچشمہ بنے رہے مگر طاقت کو کبھی مخالفین پہ استعمال نہ کیا۔ خود پانچ سال قبل ایک انتہا پسند کی گولی کا نشانہ بنے۔ زندگی دینے والے نےزندگی بچا لی۔ احسن اقبال نےدشمن کو معاف کردیا اور متانت سے خدمت خلق میں آگے بڑھ گئے۔ شرافت کی سیاست میں ایم پی اے رانا منان خاں اور وسیم بٹ ان کے میمنہ و میسرہ ہیں۔ ان کے بازو ہیں اور ان کے مشن کو کامیاب کرنے میں ہمہ وقت محو نظر آتے ہیں۔ پاکستانی اور امریکی یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل انجینئر احسن اقبال کو تعلیم اور سیاست ورثے میں ملی۔ ان کی والدہ آپا نٹار فاطمہ مرحومہ قومی اسمبلی کی ممبر رہیں، اسلامی نظریاتی کونسل کی نمائندگی کی اور کم آمدنی والے اپنے اہل علاقہ کیلئے سکول چلاتی رہیں۔ امریکہ سے پڑھ کر احسن اقبال واپس آئے تو انہوں نے نارووال کی پس ماندگی دور کرنے کا سوچا ہوگا اور یقیناً اس نتیجے پہ پہنچے ہوں گے کہ سیاست سے طاقت حاصل کی جائے اور طاقت سے جہالت اور پسماندگی کا مقابلہ کیا جائے۔ چنانچہ مورخ فخر سے لکھ سکتا ہے کہ احسن اقبال اپنی حکمت عملی میں کامیاب رہے۔
عام سے شہر میں چار یونیورسٹیوں کا وجود، میڈیکل کالج، سٹیٹ آف دی آرٹ ڈی ایچ کیو ہسپتال، اٹامک انرجی کمشن آف پاکستان کا کینسر کا تشخیصی سنٹر، ریسکیو 1122ہیڈ کوارٹر، نارووال تا لاہور چھ رویہ ایکسپریس وے، نارووال مریدکے ون وے شاہراہ، شہر میں رنگ روڈ، جمنیزیم، پاسپورٹ آفس، ریلوے اسٹیشن کمپلیکس، ای لائبریری، اولڈ ہوم، یتیم خانہ، سپیشل بچوں کیلئے سکول، پولی ٹیکنیک سکول، شہر میں سوئی گیس کی فراہمی، نادرا آفس، سیوریج، پینے کے صاف پینے کے منصوبے، ضلع بھر میں رابطہ سڑکوں کا کام، اربوں روپے کی لاگت سے پاکستان کا سب سے بڑا سپورٹس کمپلیکس، کنجروڑ اور کوٹ نیناں کے ڈگری کالج اور جدید ایکوئمپنٹ سے لیس آڈیو ویڈیو ہال وہ کارنامے ہیں جس کے اہل نارووال گن گاتے ہیں اور فخر سے دنیا کو بتاتے ہیں۔ دو ہفتے قبل یونیورسٹی آف ناروال کے قیام کے پانچ سال پورے ہونے پر خصوصی تقریبات منائی گئیں۔ اس سلسلے کی افتتاحی تقریب میں خود احسن اقبال مہمان خصوصی تھے۔ہمارے دوست سابق رکن پنجاب اسمبلی رانا منان خان کی خواہش کو حکم مان کر راقم بھی لاہور سے اس ایونٹ میں پہنچا۔ احسن اقبال کا خطاب ان کی شادمانی اور اطمینان کا غماز تھا۔ انہیں یونیورسٹی کے قیام سے لے کر اب تک کے سارے مراحل ازبر تھے۔ وہ یونیورسٹی کی ایک ایک خوبی اور اس سفر میں پیش آنے والی رکاوٹوں اور چیلنجز کو یوں بیان کر رہے تھے جیسے تخلیق کار اپنے کس فن پارے کی جہتیں بیان کر رہا ہو۔ احسن اقبال اپنے خطاب میں بولے کہ نارووال کو تعلیم بانٹنے والا شہر بنانا انکا خواب تھا ان کے پاس اپنے والدین کی چھوڑی ہوئی جائیداد نہیں تھی صرف تعلیم تھی جس کی بدولت وہ اسمبلی تک پہنچے اور اپنے ملک پاکستان کی خدمت کرنے کا موقع ملا ہے۔ آج مجھے فخر ہے کہ یونیورسٹی آف نارووال کے علاوہ، ویٹری یونیورسٹی لاہور، انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور اور ایگریکلچر یونیورسٹی کے کیمپس نارووال میں ہیں۔ یونیورسٹی آف نارووال میرا پہلا بڑا پراجیکٹ تھا۔ اس کے قیام کو پانچ سال ہو چکےہیں ۔اسے 2018 میں ایک آزاد یونیورسٹی کے طور پر اپ گریڈ کیا گیا تھا۔ یونیورسٹی میں قریباً پانچ ہزار سٹوڈنٹس زیر تعلیم ہیں جن میں سے تین چوتھائی طالبات ہیں،10 مختلف شعبہ جات میں ایم فل، 18 میں انڈر گریجوایٹ پروگرام جاری ہیں۔ احسن اقبال مسرور نظر آئے کہ نارووال پنجاب میں اور پاکستان میں ان علاقوں میں شامل ہو چکا ہے جو تعلیم کے شعبے میں سب سے زیادہ ترقی کرنے والے علاقے ہیں۔ وہ خود بھی تعلیم کی بنیاد پر ہی زندگی میں آگے بڑھے۔اسی لیے انہوں نے نوجوانوں کے لیے خاص کر غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو تعلیم کا زینہ فراہم کیا تاکہ نوجوان اپنے علاقے کی تقدیر بدلنے کو موجب ہوں۔ میری سیاست کا مرکزی نقطہ تعلیم کو عام کرنا رہا ہے۔ نوجوان قرآن کی تعلیم کے مطابق تحقیق اور مشاہدہ کو اپنائیں اور نئے دور کے تقاضوں کے مطابق فنی امور میں مہارت حاصل کریں۔ اگر اپنی کھوئی ہوئی پہچان واپس لینی ہے تو علم اور تحقیق کے رواج کو دوبارہ زندہ کرنا ہے۔ طلبا سے کہا کہ وہ اپنا مقصد بنائیں کہ انکی ریسرچ صرف پاکستان میں نہیں بلکہ دنیا کے جرنلز میں شائع ہو۔ احسن اقبال نے بتایا کہ 2016 سے پہلے تک نارووال کے طلباء وطالبات کو اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لیے لیے نارووال سے دور دراز ان شہروں میں ہجرت کرنا پڑتی تھی جہاں اعلیٰ تعلیم کے معیاری ادارے ہیں۔ احسن اقبال نے بتایا کہ یونیورسٹی آف گجرات کا سب کیمپس نارووال میں متعارف کروایا گیا جس کا دورانیہ 5 سال کا تھا بعد ازاں 2018 میں اس سب کیمپس کو خود مختار کرکے یونیورسٹی آف نارووال کے نام سے ایک مکمل یونیورسٹی کا درجہ دے دیا گیا۔ اس وقت انہیں بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، اس وقت مخالفین نے یہ پروپیگنڈا کیا کہ احسن اقبال اپنی پرائیوٹ یونیورسٹی کاروبار کے لئے بنا رہا ہے۔ پرائیوٹ کالجز کے وفد نے بھی نارووال میں یونیورسٹی بنانے کی مخالفت کی لیکن وہ اپنے اصولی موقف پر قائم رہے اور اللہ تعالٰی نے ان کی مدد کی۔ گجرات کیمپس سے یونیورسٹی آف نارووال کا سفر کٹھن تھا یونیورسٹی کے لئے جگہ لیتے وقت بھی کافی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا آج اللہ کے فضل سے یہاں سے فارغ التحصیل ہونے والے بچے بچیاں بہترین روزگار کما رہے ہیں۔نارووال میں یونیورسٹی کے قیام سے وہ بچے اور بچیاں جن کے والدین دوسرے شہروں میں زیادہ اخراجات کی وجہ سے انہیں نہیں پڑھا سکتے تھے وہ نارووال میں اپنی تعلیم مکمل کروا رہے ہیں۔ قابل فخر بات یہ ہے کہ لاہور اور دیگر شہروں سے بھی سٹوڈنٹس نارووال کی یونیورسٹیوں میں آکر تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ نارووال میں پندرہ بیس سال پہلے کوئی آباد ہونا پسند نہیں کرتا تھا۔ زمین کوڑیوں کے بھاؤ تھی۔ آج نارووال کی پراپرٹی انتہائی قیمتی ہے۔ کئی مقامات پر مرلہ جگہ کروڑوں کی ہے۔ یہ سب یہاں کے تعلیمی اداروں اور انفراسٹرکچر کی ترقی کے باعث ممکن ہوا ہے۔ احسن اقبال یہ کہتے ہوئے جذباتی ہوگئے کہ نارووال سپورٹس سٹی بنانے کے جرم میں انھیں 3 ماہ جیل میں موت کے قیدیوں کی چکی میں رکھا گیا۔ اس میگا پراجیکٹ کو نارووال میں لے کر آنا میرا جرم قرار دیا گیا ، نوجوانوں کے لئے کھیلوں کے میدان بنانا جرم ہے تو اگر ان کو موقع ملا تو وہ یہ جرم بار بار کریں گے۔ احسن اقبال گورنمنٹ اسلامیہ ڈگری کالج کے بارے میں بھی فکرمند نظر آئے۔ کہنے لگے یونیورسٹی آف نارووال کو ابتدائی طور پر چلانے کے لئے اسلامیہ ڈگری کالج کی جگہ کو استعمال کرنا پڑا۔ چونکہ آج یونیورسٹی آف نارووال کی علیحدہ بلڈنگ بن چکی ہے اس لئے گورنمنٹ اسلامیہ ڈگری کالج کو بحال کروانے کیلئے گورنر پنجاب کو درخواست کروں گا۔ احسن اقبال بولتے جارہے تھے اور نارووال میں ایک ایک پراجیکٹ کی تفصیل بتاتے جارہے تھے۔ سامعین کو یہ سمجھنے میں کوئی دقت نہیں ہورہی تھی کہ نارووال واقعی احسن اقبال کا ہے۔







