کالم

وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔

تحریر: انور خان لودھی

وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ ملک میں سیاسی اور آئینی بحران کے سائے مزید گہرے ہوگئے۔ غیر یقینی منظر پھن پھیلائے کھڑا ہے اور پہلے سے سہمی قوم کو اتھاہ گہرائی میں دھکیل رہا ہے۔ جمعرات کو قومی اسمبلی نے پنجاب میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات کے حوالے سے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے فیصلے کے خلاف قرارداد منظور کر لی۔
سپریم کورٹ کے فیصلہ سنائے جانے کے بعد سے حکومت کی جانب سے اسے تسلیم نہ کرنے کے اعلانات سامنے آ رہے تھے اور حکومت یہ موقف اختیار کر رہی تھی کہ یہ ایک اقلیتی فیصلہ ہے جس کی پاسداری لازم نہیں۔ اس فیصلے کو مسترد کرنے کی خلاف قرارداد جمعرات کی شام قومی اسمبلی کے اجلاس میں خالد حسین مگسی نے پیش کی جسے منظور کر لیا گیا۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ’28 مارچ کو ایوان کی منظور کردہ قرارداد میں ازخود نوٹس کیس میں سپریم کورٹ کے چار ججوں کے اکثریتی فیصلے کی تائید کرتے ہوئے اس پر عملدرآمد اور اعلیٰ عدلیہ سے سیاسی و انتظامی امور میں مداخلت سے گریز کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ پارلیمنٹ کی اس واضح قرارداد اور سپریم کورٹ کے چار ججوں کے اکثریتی فیصلے کو مکمل نظرانداز کرتے ہوئے تین رکنی بینچ نے اقلیتی رائے مسلط کی جو سپریم کورٹ کی روایات، نظائر اور طریقہ کار کی بھی خلاف ورزی ہے اور یہ کہ ایوان تین رکنی اقلیتی بینچ کے فیصلے کو مسترد کرتا ہے اور آئین وقانون کے مطابق اکثریتی بینچ کے فیصلے کو نافذ العمل قرار دیتا ہے۔ ایوان آئین کے آرٹیکل 63 اے کی غلط تشریح اور اسے عدالت عظمی کے فیصلے کے ذریعے ازسرنو تحریر کیے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کرتا ہے کہ عدالت عظمی کا فل کورٹ اس پر نظر ثانی کرے۔ قرارداد میں ’سیاسی معاملات میں بےجا عدالتی مداخلت‘ پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا ہے کہ ’اقلیتی فیصلہ ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا کر رہا ہے اور وفاقی اکائیوں میں تقسیم کی راہ ہموار کردی گئی ہے لہٰذا، یہ ایوان ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام کے لیے آئین اور قانون میں درج مروجہ طریقہ کار کے عین مطابق ملک بھر میں ایک ہی وقت پر عام انتخابات کرانے کے انعقاد کو ہی تمام مسائل کا حل سمجھتا ہے۔ قرارداد میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایوان سپریم کورٹ کا فیصلہ مسترد کرتے ہوئے وزیراعظم اور کابینہ کو پابند کرتا ہے کہ اِس خلاف آئین و قانون فیصلے پر عمل نہ کیا جائے۔ اس قراداد کے ذریعے یہ تو واضح نہیں کہ انتخابات ملتوی کئے جا سکتے ہیں یا نہیں لیکن یہ ضرور واضح ہے کہ پارلیمنٹ اور عدلیہ ایک دوسرے کے مد مقابل کھڑے ہیں۔ مقننہ اور عدلیہ کی اس لڑائی کو دیگر ادارے اور عوام حیرت اور پریشانی سے تک رہے ہیں۔ موجودہ نظام کی بساط لپیٹ دئے جانے کی باتیں ہونے لگی ہیں۔ تحریک انصاف نے قومی اسمبلی کی قرارداد پر شدید ردعمل میں دیا ہے اور الیکشن نہ کرائے جانے کی صورت میں ایک ابڑی احتجاجی تحریک کا عندیہ دیا ہے۔
پی ٹی آئی کے رہنما فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ’موجودہ حکومت عوام سے ووٹ کا حق چھیننا چاہتی ہے۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ آئین پر عمل ہونا لازمی ہے۔ مجھے امید ہے کہ کل نیشنل سکیورٹی کونسل کے میٹنگ میں ان بات پر بات کی جائےگی۔ فواد چودھری کا کہنا تھا کہ ’حکومت عدالت سے یہ نہیں کہہ سکتی کہ اتنے جج ہوں اور اس میں یہ ہوں وہ نہ ہوں۔ یہ چیف جسٹس کا اختیار ہے۔ ‘

پی ٹی آئی کے رہنما کا کہنا تھا کہ ’ادارے وزیر اعظم کو باور کروائیں آئین کا تحفظ لازم ہے۔ اگرحکومت اس ضد میں رہی کہ الیکشن نہیں کروانے سپریم کورٹ کا حکم نہیں ماننا تو ہم ایک بڑی تحریک کے لیے تیار ہیں۔ اگر آئین ہی ختم ہو جائے گا تو ہر شخص کا اپنا طریقہ ہو گا کہ وہ احتجاج کا کیا طریقہ اپناتا ہے۔ ہم قطعی اپنی فوج اور اس کے سربراہان اور اداروں کے ساتھ کسی ٹکراؤ کے حق میں نہیں۔ ہمیں ان سے امید ہے کہ پاکستان کے آئی اور آئین کے دیے حلف کو نبھائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ختم کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ وہ دو تہائی اکثریت سے دونوں ایوانوں میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو ختم کر سکتے ہیں۔ باقی ہر صورت اس پر عمل در آمد کرنا ہوتا ہے۔ فواد چودھری نے عدالتی اصلاحات کا بل بھی بد نیّتی پر مبنی قرار دیا اور کہا کہ حکومت اور حزب اختلاف مل کر جنرل الیکشن کی بھی تاریخ دے سکتے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وہ لوگ الیکشن لڑنا ہی نہیں چاہتے۔ پاکستان کی تاریخ میں متعدد بحرانوں کے باوجود اپنی نوعیت کا یہ الگ سا بحران ہے جس میں عدلیہ خود تقسیم کا شکار ہے۔ ایک طرف سپریم کورٹ کا آرڈر اور دوسری طرف قومی اسمبلی کی قرارداد ہے تو اہم سوال یہ ہے کہ کیا قراداد سے الیکشن ملتوی ہو سکتے ہیں، اور حکومت کی حکم عدولی پر عدالت عظمٰی کے پاس کیا آپشن ہے۔

حکومت پارلیمان کی مدد سے سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد سے بچ سکتی ہے؟ اس کے ساتھ یہ سوال بھی اہم ہے کہ اگر حکومت اس حکمت عملی کے تحت سپریم کورٹ کا حکم ماننے سے انکار کرتی ہے تو عدالت کے پاس کیا راستہ باقی بچے گا؟ ایک مکتب فکر کی رائے میں سپریم کورٹ کے حکم کو سپر سیڈ کرنا ہو تو صرف آئینی ترممیم سے کیا جا سکتا ہے اور ایکٹ یا آرڈیننس اسے غیر مؤثر نہیں کرسکتے۔ جبکہ دوسرے دھڑے کا خیال ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کی حیثیت اس وقت ہوتی ہے جب وہ کسی قانون یا آئین کے تحت دیا جائے جبکہ یہ فیصلہ صرف تین ججوں کا ہے جن کو یہ آئینی اختیار ہی نہیں کہ وہ الیکشن کی تاریخ دیں۔ دونوں طرح کے خیالات میں خوش خبری نہیں ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے تو انتہائی تشویشناک اشارہ بھی کردیا کہ سپریم کورٹ کو پوری پارلیمان کو گھر بھیجنا ہو گا۔ پارلیمان کی بقا کے خواہش مندوں کیلئے وقت تیزی سے کم ہو رہا یے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Articles

Back to top button