آزادی صحافت کا دن

تحریر بسم اللہ ارم
صحافت یعنی کسی بھی معاملے کے بارے میں تحقیق کرنا ور پھر صوتی بصری یا تحریری شکل میں بڑے پیمانے پر قارئین و ناظرین تک پہنچانے کے عمل کا نام صحافت ہے اوع صحافت پیشہ اپنانے والے کو صحافی کہتے ہیں آج کل کے دور میں ہر انسان اپنے اردگرد کے ماحول کے بارے میں آگاہی حاصل کرنا چاہتا ہے وہ دنیا میں ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں جاننا چاہتا ہے یہ سب معلومات اگایی ا سے میڈیا کے ذریعے ملتی ہیں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ صحافی ہمارے تجسس کو پورا کرتا ہے صحافی معاشرے کی زبان ہوتا ہےصحافی سماج کا ایک ایسا آئینہ جو سب کچھ عیاں کرتا ہے جس میں معاشرتی ایشوز مملکت کی سچائیاں تلخیاں خوشگوار اور نا خوشگوار واقعات سیاست مذہب حادثات اور تجربہ شامل ہوتی ہیں صحافی اپنے قلم اور اواز کے ذریعے مسائل کو منظر عام پر لاتا ہے اور اس کے حل پر زور دیتا ہے صحافی ایسی آواز ہے جو عام لوگوں کی ترجمانی کرتا ہے صحافی اپنے پیغام کو پہنچانے کے لیے پرنٹ میڈیا الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا کا سہارا لیتا ہے پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا جو کہ باقاعدہ ایک پالیسی اور ایڈیٹوریل بورڈ کے تحت کام کرتا ہے اس لیے ان ذرائع سے مصدقہ معلومات اور خبریں ملتی ہیں آزادی اظہار اور میڈیا کی جانب سے فراہم کردہ حقیقی و درست اطلاعات تک رسائی خوشحال اور محفوظ جمہوری معاشروں کی بنیاد ہوتی ہے صحافت ریاست کا چوتھا ستون ہے اگر اسے نظر انداز کر دیا جائے تو باقی تین ستون اپنی اپنی اہمیت کھو دیتے ہیں دنیا کے ترقی یافتہ دور اور دولت مند ممالک میں میڈیا ہاؤسز اپنے تجارتی مفادات کے لیے صحافت کو استعمال کرتے ہیں پسماندہ ترقی پذیر ملکوں میں حکومت قومی سلامتی اور قومی مفاد کے نام پر صحافت کو اس لیے پابندی سلاسل بنانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کی بدعنوانیاں صحافت کے ذریعے منظر عام پر نہ آئیں تمام صحافیوں کو بے شمار مسائل درپیش ہیں ہر قسم کی مشکلات اور مصائب کے باوجود صحافی ازادی صحافت کا دن منا رہے ہیں اگرچہ ہر حکومت میڈیا پر پابندیاں لگانے کی کوشش کرتی ہے مگر دوسری جانب میڈیا ہمیشہ امن پسندی اور انسانی حقوق کی پاسداری کے موقف پر ڈٹا رہتا ہے عوام تک خبریں اور معلومات پہنچانے کے لیے ہر خطرہ اپنی ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے مول لیتے ہیں ازادی صحافت کا دن 3 می کو منایا جاتا ہے پریس فریڈم ڈے کا آغاز انیس سو ترانوے میں ہوا تھا دن کو منانے کی باقاعدہ منظوری قوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں منظور ہوئی تھی اس دن کو پاکستان میں بھی اس لئے منایا جاتا ہے کہ یونیورسل ڈیکلئیریشن آف ہیومن رائیٹس کے تحت آرٹیکل 19 اظہار رائے کی آزادی دیتا ہے یہ دن منانے کا مقصد پیشہ ورانہ فرائض کی بجا آوری کے دوران صحافیوں اور صحافتی اداروں کو درپیش مشکلات مسائل دھمکی آمیز رویوں اور زندگیوں کو درپیش خطرات کے متعلق دنیا کو اگاہ کرنے صحافیوں کے سیاسی مسائل کی کھوج رپورٹنگ کے دوران مختلف مسائل بشمول دھمکیوں ہراسمنٹ اور حملوں کا سامنا ہوتا ہے ا

س پر بات کی جاسکے صحافیوں کو درپیش مساہل کا جاہزہ لیا جا سکے اور ان ماہل کے حل کے لے کیا لاہحہ عمل اختیار کیا جاہے اس حوالہ سے تجاویز حکومتی سطح پر دی جا سکتی ہیں صحافت کی بات کی جائے تو دنیا بھر میں صحافی پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں اس کے ساتھ آزادی صحافت پر بات کرو تو ارشد شریف کی یاد دلاتی ہے کہ صحافیوں کے خلاف جرائم پیشہ افراد کس قدر طاقتور ہوتے جا رہی ہیں 1992 کے بعد کوئی ایسا سال نہیں گزرا کہ جب صحافی ہلاک نہ ہوا ہو صدف نسیم کی حادثاتی موت بھی اسی آزادی صحافت کی جنگ کے دوران ہوئی دوران صحافتی ذمہ داری معاشی قتل کے ساتھ صحافیوں کو قتل کیا جارہا ہے صحافیوں کے حقوق کے لیے باقاعدہ قانون سازی کرنے اور اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے







