Uncategorized

مشین ہی ٹھیک کروادیں، امیر حیدر ہوتی MRI

ہسپتال اور یونیورسٹیوں کی تکمیل کا مطالبہ چھوڑیں' سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

مردان (ویب ڈیسک) سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا امیر حیدر خان ہوتی نے کہاہے کہ ’مردان کے ہسپتال میں ہماری حکومت کی فراہم کردہ
MRI مشین عرصہ دراز سے خراب پڑی ہےو صرف 6 کروڑ روپے کی مرمت نہیں کرائی جا رہی، ہم کبھی بچوں کے ہسپتال اور یونیورسٹی کی تکمیل کا مطالبہ کرتے تھے لیکن آج کہتے ہیں کہ کم از کم عوام کی سہولت کے لیے ایم آر آئی مشین کی مرمت ہی کرادیں‘
تقریب سے خطاب میں امیر حیدر ہوتی نے کہاہے کہ آج آپ کے ضلع کا یہ حال ہے، ہسپتال میں کام کرنیوالے میرے ایک دوست نے بتایاکہ ہم بہت زیادہ مشکلات سے دوچار ہیں کیونکہ آپ نے اپنے دورِ حکومت میں جو MRI اور اسکین کی مشین ہمیں لے کر دی تھی، وہ کافی عرصے سے اسی طرح خراب پڑی ہےاور اس کی مرمت پر 6 کروڑ روپے کا خرچہ آتا ہے، لیکن اس کی مرمت کے لیے کوئی پیسے نہیں دے رہا۔ مجھ جیسے شخص کے پاس اگر وسائل نہ ہوں تو مردان میں علاج نہیں کروا سکتا، اسلام آباد جائے گا، اور اگر اسلام آباد میں بھی اس کا علاج ممکن نہ ہو تو وہ ملک سے باہر جائے گا۔ یہ (سہولیات) غریبوں کے لیے نہیں بلکہ خانوں (امیروں) کے لیے ہیں،میں پہلے پی ٹی آئی (PTI) سے یہ گلہ کرتا تھا کہ آپ نے 13 سالوں میں مردان ہسپتال کا کام پورا نہیں کیا، میں پہلے یہ گلہ کرتا تھا کہ بچوں کا ہسپتال آپ نے ادھورا چھوڑ دیا، یونیورسٹی کا منصوبہ آپ نے ادھورا چھوڑ دیا، اب میں ان سے کہوں گا کہ یار کم از کم اگر کچھ اور کر سکتے ہو یا نہیں کر سکتے تو پرانی چیز ہی سہی، جو مشین میں نے اپنے دورِ حکومت میں لگوائی تھی اسے تو چالو کر دو۔
ان کا مزید کہناتھاکہ اگر نئی نہیں لا سکتے تو اتنی مہربانی کرو کہ کم از کم اسی کی مرمت کروا دو تاکہ ہسپتال میں غریب لوگوں کے MRI اور اسکین کا کام ہو سکے۔ یہ میں نے آپ کو صرف ایک مشین کی بات بتائی ہے، لیکن جنہیں معلوم ہے انہیں پتا ہے کہ یہ صرف ایک مشین کا معاملہ نہیں ہے، ان راستوں پر اگر آپ ریسکیو 1122 کی ایمبولینسیں دیکھیں تووہ کھڑی کھڑی خراب ہو چکی ہیں۔ یہ وہ گاڑیاں ہیں جو 2010 میں خریدی گئی تھیں، 2010 کے بعد کسی نے نئی گاڑیاں نہیں لیں۔ہمارے ہسپتالوں میں آج مشینوں کا یہ حال ہے کہ وہ خراب ہیں اور ان کی مرمت کے لیے پیسے نہیں ہیں۔
سابق وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہمارے کالجوں میں آج یہ حالات ہیں کہ ہمارے پاس کالجوں کے لیے پیسوں کی کمی ہے، اس لیے کالجوں کو پرائیویٹائز (نجکاری) کیا جا رہا ہے، جس کے خلاف آخر کار بچے احتجاج پر نکل آئے۔ ہماری یونیورسٹیوں میں آج یہ حالات ہیں کہ یونیورسٹیوں میں نئی تعمیرات اور نئے منصوبوں کے لیے تو پیسے چھوڑیں، یونیورسٹیوں میں آج ملازمین کی پینشن اور تنخواہوں کے لیے بھی پیسے موجود نہیں ہیں۔”

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Articles

Back to top button